شیموگہ:6 ؍مارچ(ایس او نیوز)ریاستی وزیر کاگوڈ تمپا کی انتقامی سیاست سے تنگ آکر کانگریس پارٹی کی رکنیت سے استعفیٰ دینا پڑا، یہ بات سابق ریاستی وزیر کمار بنگارپا نے کہی، انہوں نے یہاں ٹراولرس بنگلہ میں طلب کردہ اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کو جب دستور نے ہی قومی پارٹی کے طور پر قبول کرلیا ہے، تو میرے مان لینے میں کیا غلطی ہے، انہوں نے کہا کہ پچھلے کئی دہوں سے کانگریس پارٹی میں وفادار کا رکن کی حیثیت سے کام کرنے کے باوجود کاگوڈ تمپا کی انتقامی سیاست سے تنگ آکر پارٹی سے استعفیٰ دینا پڑا، وفادار کانگریس کارکنوں کو نظر انداز کرکے اپوزیشن پارٹی جے ڈی ایس کے کارکنوں کو وزیر کاگوڈ تمپا نے بغیر حکم کمیٹی اور دیگر کمیٹیوں کے لئے صدر مقرر کیا ہے، مرکزی حکومت کے عوام دوست منصوبوں اور وزیر اعظم نریندر مودی کی مقبولیت کو دیکھ کر حامیوں کے ساتھ تبادلہ خیال کرنے کے بعد ہی بی جے پی میں شمولیت کا فیصلہ کیا گیا ہے، اور اس ماہ کی9 تاریخ کو بنگلور کے ملیشورم میں واقع بی جے پی دفتر میں پارٹی کے سینئر لیڈروں کی موجودگی میں بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلیں گے۔کمار بنگارپا نے کہا کہ کاگوڈ تمپا پہلے سے ہی آنجہانی ایس بنگارپا کے خلاف دشمنی کی سیاست کرتے آرہے ہیں، کانگریس پارٹی کی حمایت کا اعلان کرکے ایک مرتبہ بنگارپا کو شکاری پور سے انتخاب لڑنے کا مشورہ دے کر انہیں شکست دینے میں نمایاں کردار ادا کیا تھا۔